سیاحتی مقامات پر اب سست انٹرنیٹ


مقامی یا غیر ملکی سیاح اکثر انٹرنیٹ کی کمزور سروس کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔ خاص طور پر وی لاگر اور ایسے افراد جو وہاں سے فیس بک پر لائیو ویڈیو دکھانا چاہتے ہیں۔
اس کے علاوہ ان علاقوں کے لوگ آن لائن تعلیم اور دیگر سروسز کے حوالے سے بھی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ تاہم ان شکایات کا نوٹس لے لیا گیا ہے اور وفاقی  حکومت نے ان تمام علاقوں میں ہنگامی طور پر تیز ترین فور جی اور تھری جی سروس متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔  
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حکام کے مطابق اس مقصد کے لیے وزیراعظم کے سیاحت کے فروغ کے ویژن کے تحت ایک پروگرام لانچ کیا جا رہا ہے۔


وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکشن سید امین الحق نے آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخواہ کے متعلقہ وزرا سے کہا ہے کہ وہ اپنے اُن سیاحتی مقامات کی تفصیلات فراہم کریں جہاں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی آمدورفت زیادہ ہے تاکہ ان علاقوں میں براڈ بینڈ سروس کی فراہمی کے لیے ہنگامی طور پر منصوبوں کا آغاز کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر نے سیاحتی مقامات پر براڈ بینڈ سروس کی فراہمی کا منصوبہ وزیراعظم کے ڈیجیٹل پاکستان ویژن اور ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا ہے اس ضمن میں متعلقہ حکومتوں سے جواب کا انتظار ہے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اور کشمیر میں کمیونیکیشن سروسز کی فراہمی وزارت آئی ٹی کے ذیلی ادارے سپیشل کمیونیکشن آرگنائزیشن اور دیگر علاقوں میں یونیورسل سروس فنڈ کے تحت نجی موبائل آپریٹرز کو دیے جانے والے پراجیکٹس پر منحصر ہوگی جس کے لیے ابتدائی منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ان منصوبوں پر کتنا وقت لگے گا ابھی واضح نہیں ہوا تاہم حکام کا کہنا ہے کہ وزارت کی کوشش ہے کہ ان علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر براڈ بینڈ سروس فراہم کی جائے۔
حکام کے مطابق سروس فراہم کرنے کے لیے یونیورسل سروس فنڈ میں رقم فراہم کرنے والےٹیلی کام آپریٹر جیسے زونگ، یوفون موبی لنک وغٖیرہ ہی میں سے انتخاب کیا جائے گا اور ٹینڈر کے ذریعے کمپنی کا انتخاب کیا جائے گا
یاد رہے کہ یونیورسل سروس فنڈ حکومت پاکستان نے ملک کے دیہی اور دور دراز علاقوں میں ٹیلی کام سروسز کی فراہمی کے لیے قائم کیا ہے جس کے تحت ملک میں کام کرنے والی سیلولر کمپنیاں یعنی ٹیلی کام آپریٹر اپنی سالانہ آمدن کا ایک اعشاریہ پانچ فیصد اس فنڈ میں جمع کرواتی ہیں۔
حکومت اس فنڈ کو صرف پسماندہ علاقوں کو انٹرنیٹ سروس کی فراہمی کے لیے استعمال کرتی ہے۔


 

No comments:

Post a Comment